ابنا: پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان حاضر جوابی میں اپنا جواب نہیں رکھتے، مگر نہ جانے کیوں جمعہ کے روز سپیکر رانا محمد اقبال خان کی زیر صدارت ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں انہیں ایوان کے اندر محکمہ داخلہ کے تحریری سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اپوزیشن کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، مگر وہ خاموش رہے اور ان سے کوئی جواب بن نہ پایا۔ یہی وزیر قانون بلیک واٹرز کے امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد وفاقی حکومت کو بہت کوستے تھے اور بار بار کہتے تھے کہ وہ پنجاب کی جیل سے ریمنڈ ڈیوس کو رہا نہیں کریں گے، جب تک کہ عدالتی حکم نہ آ جائے کہ اسے سفارتی استثنٰی حاصل ہے۔ وہ امریکی مفادات کے تحفظ کا الزام بھی وفاقی حکومت پر لگاتے رہے ہیں اور اب بھی لگاتے ہیں۔ مگر اسمبلی کے فلور پر اپوزیشن نے سوال پر پوچھا کہ تھانہ سرور روڈ لاہور کینٹ نے کیسے جعلی نمبر پلیٹ رکھنے والی امریکی قونصلیٹ لاہور کی گاڑی کو انہیں واپس کر دیا کہ امریکی قونصلیٹ کے آفیسر نے تصدیق کر دی تھی کہ یہ گاڑی انہیں کی ہے۔
ہوا یوں تھا کہ 11دسمبر 2009ء کو امریکی قونصلیٹ لاہور کی جعلی نمبر والی گاڑی نمبری IDL1967 کو پولیس نے شیر پاو پل جیل روڈ پر روکا، کالے شیشے رکھنے والی اس پجیرو میں بیٹھے شخص نے اپنی گاڑی کی تلاشی کروائی اور نہ ہی شیشے نیچے کئے، جس پر پولیس نے اسے حراست میں لے کے تھانہ سرور روڈ پہنچایا اور وہاں انکشاف ہوا کہ اس کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں۔ تھانے میں رپورٹ درج ہوئی اور امریکی قونصلیٹ کے آفیسر کی تصدیق پر گاڑی کو بغیر سپرد داری کے قانونی طریقہ کار کو اپنائے واپس کر دیا۔ مسلم لیگ ن ہی کے ایم پی اے نوید انجم کے تحریری سوال کے جواب میں محکمہ داخلہ نے تسلیم کیا کہ مقدمہ درج کئے بغیر مذکورہ گاڑی کو واپس کر دیا گیا تھا اور تھانے میں صر ف رپورٹ درج کی گئی۔
وزیر قانون کا جواب سامنے آیا تو اس پر پھر کیا تھا۔ ایوان سراپا احتجاج بن گیا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت میں زوردار اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیر قانون کو خوب آڑے ہاتھوں لیا اور ان سے وضاحت طلب کی کہ تھانے کے ایس ایچ او نے کس ضابطہ فوجداری کے تحت جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی کو چھوڑ دیا۔ رانا ثناءاللہ خان کا کہنا تھا کہ امریکی قونصلیٹ کے آفیسر کی تصدیق پر کہ گاڑی سوار ان کا ڈرائیور ہے اور گاڑی قونصلیٹ دفتر کی ہے اس لئے ایس ایچ او نے اسے اعلٰی پولیس آفیسران کے کہنے پر چھوڑ دیا۔ اپوزیشن اراکین کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کو اختیار نہیں کہ وہ جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی کو مقدمہ درج کئے بغیر کسی کے حوالے کر دے۔
پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی عظمٰی بخاری نے کہا کہ وزیر قانون، قانون کی غلط تشریح کر کے پولیس کی نااہلیوں اور نالائقی کو چھپا رہے ہیں۔ وہ سی آر پی سی کی وہ شق بتا دیں، جس کے تحت یہ ثابت ہو چکا ہو کہ نمبر پلیٹ جعلی ہے۔ لیکن وزیر قانون کیا خاموش تھے، مسلم لیگ ن کا کوئی اور رکن بھی رانا ثناءاللہ خان کی مدد کو نہیں پہنچا۔ پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شوکت بسرا نے کہا کہ صوبائی وزیر قانون، قانون سے نابلد ہیں، ان کی طرف سے پولیس کو ایماندار قرار دینا صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ کی وجہ سے پنجاب پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے۔ جو مبینہ طور پر قبضہ گروپوں کی مدد کرتے اور پولیس کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
پھر کیا تھا کہ باوجود مسلم لیگ ن کے مختلف اراکین کی طرف سے مخالفانہ نعروں اور شور شرابے کے شوکت بسرا نے گیا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور ذکر چھیڑ دیا سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس (ر) خواجہ شریف قتل سازش کیس کا۔ جس میں ان دنوں وفاقی حکومت کے لئے درد سر بنا ہوا میمو سکینڈل کی طرح سپیشل برانچ کی بغیر دستخط خفیہ رپورٹ کے مطابق سابق گورنر پنجاب مرحوم سلمان تاثیر، سینیٹر بابر اعوان، پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فخرالدین چودھری اور دیگر رہنماوں سے منسوب ایک اجلاس کے تانے بانے ملائے گئے کہ اس میں جسٹس خواجہ شریف کو قتل کرنے کی سازش تیار کی گئی۔ جو مبینہ طور وفاقی حکومت کے خلاف ان دنوں بہت زیادہ مقدمات کی سماعت کر رہے تھے اور مسلم لیگ ن کی قیادت کو ریلیف دیتے تھے۔ اس سازش کی تحقیقات کے لئے پر تین رکنی عدالتی کمشن تشکیل دیا گیا، جس کی رپورٹ حکومت کو جمع کروا دی گئی ہے، مگر اس کی سفارشات اور مندرجات کو عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان پر عمل کیا گیا ہے۔
شوکت بسرا کا کہنا تھا کہ عدالتی کمیشن کی سفارشات کے مطابق وزیراعلٰی کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر کو ابھی تک اس کے عہدے سے نہیں ہٹایا گیا جو کہ اس جعلی رپورٹ کے ماسٹر مائنڈ ثابت ہو چکے ہیں جبکہ اس رپورٹ کے قلمکار سپیشل برانچ کے اہلکار سہیل احمد نے وزیر قانو ن کی طرف سے ترقی دلوانے اور دیگر سرکاری مراعات کا لالچ دینا ثابت ہو چکا ہے۔ صرف یہی نہیں جولائی 2010ء میں پنجاب میں تباہی مچانے والے سیلاب پر بنائے گئے جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی فلڈ کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات پر بھی کسی قسم کا عمل کیا گیا ہے اور نہ ہی رپورٹ کو میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ اسی طرح میٹرک کے نتائج غلط تیار کرنے پر طلبا کی طرف سے جو ہنگامہ آرائی ہوئی اور ایک طالب نے فیل ہونے کی خبر سن کر خودکشی بھی کر لی تھی اس کی تحقیقات پر بھی کمشن بنایا گیا، مگر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
اس پر اپوزیشن نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے اپیل کی کہ پنجاب حکومت کے خلاف تینوں جوڈیشل کمیشنوں کی سفارشات پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ لیکن دیکھیں اپوزیشن کی اس اپیل پر کب عملدرآمد ہوتا ہے۔ جبکہ ان میں یہ تاثر زور پکڑتا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت کے خلاف عدلیہ جلد کارروائی کے لئے تیار ہو جاتی ہے، جبکہ مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت سے اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کیا جاتا۔
.......
/169